ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اڈپی حجاب معاملہ پر ہائی کورٹ کی سماعت 8فروری کو

اڈپی حجاب معاملہ پر ہائی کورٹ کی سماعت 8فروری کو

Fri, 04 Feb 2022 09:31:29    S.O. News Service

بنگلورو؍اُڈپی،4؍فروری(ایس او  نیوز) اڈپی کے سرکاری پری یونیورسٹی کالج میں مسلم طالبات کو حجاب پہن کر کلاسس میں شامل ہونے کی اجازت دینے کی گزارش کرتے ہوئے اس کالج کی طالبہ کی طرف سے کرناٹک ہائی کورٹ میں جو عرضی دائر کی گئی ہے اس کی سماعت 8فروری تک ملتوی کردی گئی ہے۔ کرناٹک کے ایڈوکیٹ جنرل پربھو لنگا نوادگی کی طرف سے چونکہ اس معاملہ میں عدالت میں حاضر ہو کر پیروی کی جائے گی اس لئے عدالت نے معاملہ کو 8فروری تک موخر کردیا ہے۔ عرضی میں گزارش کی گئی ہے کہ کالج کی طالبات کو کلاس میں حجاب پہن کر آنے اور ان کے دیگر مذہبی احکامات کی پابندی کرنے سے روکتے ہوئے کالج کے انتظامیہ کو احکامات صادر کرنے سے روکا جائے۔ چونکہ ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل نے خود اس معاملہ میں پیروی کرنے کی پہل کی ہے اس لئے عدالت نے معاملہ کی سماعت کو ملتوی کردیا۔’

کندا پورمیں نیا تنازعہ: اڈپی کے بعد ساحلی کرناٹک کے کنداپور میں بھی حجاب کا نیا معاملہ سامنے آیا ہے جس میں بھی کالج انتظامیہ پر تعصب کا الزام لگایا گیا ہے۔ کنداپور کالج میں برقعہ اور حجاب پہن کر آنے والی طالبات کو کالج کے پرنسپل نے یہ کہہ کر اندر جانے سے روک دیا کہ سرکاری حکم ہے کہ وہ کالج کے اندر حجاب اور برقعہ پہن کر داخل نہیں ہو سکتیں۔ اس بات کو لے کر کالج کے پرنسپل اور طالبات کے درمیان کافی دیر تک تکرارہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ حجاب پہن کر آنے والی مسلم طالبات کو کلاسوں میں جانے سے روکنے کے لئے کالج کے پرنسپال گیٹ کے باہر آکر کھڑے ہوگئے۔ جب پرنسپل نے حجاب پر پابندی کے متعلق سرکاری حکم کا تذکرہ کیا تو طالبات نے اصرار کیا کہ ان کو وہ سرکاری حکم نامہ دکھایا جائے جس میں حکومت نے تمام سرکاری کالجوں میں حجاب پہن کر آنے پر پابندی عائد کی ہے۔ اس پر پرنسپل نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اگر کوئی سرکیولر جاری کیا جاتا ہے تو وہ پوری ریاست کے لئے ہوتا ہے اس کوکسی ایک کالج کے لئے جاری نہیں کیا جاتا۔ 

وزیر تعلیم ناگیش کا بیان: اس دوران ریاستی وزیر برائے بنیادی و ثانوی تعلیم بی سی ناگیش نے کہا

 کہ اڈپی کے سرکاری پی یو کالج یا دیگر تعلیمی اداروں میں حجاب پہن کر آنے کا جو مسئلہ کھڑا ہوا ہے اس کا جائزہ لے کر رپور ٹ پیش کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔ اس کمیٹی کی طرف سے رپور ٹ اگلے تعلیمی سال تک ملنے کی امید ہے۔ رپورٹ ملنے کے بعد اس کے بارے میں حکومت سخت موقف اپنائے گی۔ حالانکہ ساحلی علاقوں میں زیادہ تر مسلم خواتین با حجاب ہی گھر سے باہر نکلتی ہیں اور مذہب اسلام خواتین پر پردہ فرض ہے مگر وزیر موصوف نے کہا کہ اس سے پہلے کالجوں میں طالبات حجاب پہن کر نہیں آتی تھیں۔ اور حال ہی میں انہوں نے حجاب پہن کر آنا شروع کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ حکومت کے لئے ایک درد سر بن گیا ہے۔ ناگیش نے کہا کہ تعلیمی ادارہ ایک مقدس مقام ہوتا ہے دوفرقوں کے درمیا ن اس کو میدان جنگ بننے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے۔ سب کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہر طالب علم ان اداروں میں برابر ہے۔ تعلیمی اداروں میں اس طرح کی سرگرمیوں کوموقع نہیں دیا جانا چاہئے۔ حکومت نے پہلے ہی اس بارے میں وضاحت کردی ہے۔ناگیش نے کہا کہ کمیٹی کی طرف سے اگلے تعلیمی سال تک رپورٹ مل جائے گی اس کے بعد حکومت اس معاملہ میں اپنا موقف واضح کرے گی۔


Share: